ایک صاحب بھاگم بھاگ ٹرین میں سوار ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ پورے کا پورا کمپارٹمنٹ باراتیوں سے بھرا ہوا ہے اور فقط وہی ایک اجنبی ہیں جو انکے درمیان گھس گئے ہیں، وہ خاموشی سے بیٹھ گئے
کچھ ہی دیر کے بعد باراتیوں نے زردے کی دیگ کھولی اور سب باراتیوں کو میٹھے چاول پیش کئے گئے مگر ان صاحب کو نظر انداز کردیا گیا، انہوں نے سوچا کہ شائد ان پر کسی کی نظر نہیں پڑی، بہرحال خاموشی سے ان لوگوں کو زردہ کھاتے دیکھتے رہے اور دل ہی دل میں کڑھتے رہے۔
کچھ دور جانے کے بعد مٹھائی کا ڈبہ کھولا گیا اور سب باراتیوں میں موتی چُور کے لڈو پیش کیئے گئے جن پر خوب بادام اور پستہ لگا ہوا تھا، ان صاحب کے منہ میں پانی آگیا مگر پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی انہیں لفٹ نہیں کروائی گئی۔
اب کولڈ ڈرنکس کی باری آئی تو ان صاحب کو ایک مرتبہ پھر کچھ نہ ملا جس پر وہ بری طرح بھڑک اٹھے اور غصے سے آگ بگولہ ہو کربہ آوازِ بلند بولے،
یا اللہ
اس ڈبے پر ڈرون حملہ کروا دے،
ان صاحب کی یہ فریاد سن کر بارات میں سے ایک بزرگ صورت آدمی اٹھا اور ان صاحب کے پاس آکر کہنے لگا کہ آج اس کے بیٹے کی شادی ہے اور تم بد دعائیں دے رہے ہو یہ انتہائی نامناسب بات ہے۔
ان صاحب نے جواب دیا کہ جو بھی ہو دیکھ لینا اس ڈبے پر ڈرون حملہ ضرور ہوگا،
اس شخص کو بھی غصہ آگیا اور بولا،
تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اس ڈبے پر ڈرون حملہ ہوا تو تم بچ جاؤ گے؟
ان صاحب نے جواب دیا کہ ہاں میں ضرور بچ جاؤں گا جس طرح زردے، لڈو اور کولڈ ڈرنکس کی دفعہ بچ گیا تھا






0 comments:
Post a Comment